نئی دہلی،30/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)نابالغہ سے عصمت دری کے الزام میں گزشتہ تین سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے جیل میں بند آسارام باپو کو زورکا جھٹکا دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے نہ صرف میڈیکل کی بنیاد پر داخل کی گئی عبوری ضمانت عرضی اور باقاعدہ ضمانت عرضی کو مسترد کر دیا، بلکہ ان کے خلاف جیل سپرنٹنڈنٹ کا فرضی خط لگانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کی بھی ہدایت دی، اور آسارام باپو کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملہ کے ٹرائل میں جان بوجھ کر رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے پیر کو آسارام باپو کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے رویے پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ یہ بالکل صاف ہے کہ وہ معاملہ کی سماعت میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔عدالت عظمی کے مطابق معاملہ کے تفتیشی افسر کو کراس ایگزا منیشن کے لیے 104بار ٹرائل کورٹ میں بلایا گیا، اور مقدمے کی سماعت کے دوران کئی گواہوں پر بھی حملے ہوئے، جن میں دو کی جان چلی گئی، اس لیے ایسے حالات میں آسارام باپو کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔اس کے علاوہ عدالت نے ضمانت حاصل کرنے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کا فرضی خط دائر کرنے پر سخت رخ اپناتے ہوئے راجستھان حکومت کو آسارام باپو کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں فرضی خط داخل کرنا سنگین جرم ہے، اور اسے ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا اور نہ ہی غیر مشروط معافی مانگ لینے کی بنیاد پر معاملہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔عدالت عظمی نے کہا کہ تفتیشی افسر ایف آئی آر درج کرکے جلد از جلد تحقیقات مکمل کریں اور جرم ثابت ہونے پر قانونی کاروائی کریں۔عدالت نے فرضی خط دینے کے لیے آسارام باپو پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔دراصل، آسارام باپو کی طرف سے سپریم کورٹ میں 8/نومبر 2016کو جودھپور سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا خط لگایا گیا تھا، جس میں لکھا تھا کہ آسارام کی طبیعت خراب ہے۔بعد میں حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ یہ خط فرضی ہے۔اس کے بعد آسارام نے بھی اعتراف کیا تھا کہ خط صحیح نہیں ہے اور عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگی تھی۔اس سے پہلے، پیر کو ہی میڈیکل بنیاد پر دائر کی گئی آسارام باپو کی عبوری ضمانت کی عرضی کو بھی عدالت عظمی نے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ جانچ رپورٹ سے صاف ہے کہ ان کی صحت ایسی نہیں ہے کہ انہیں ضمانت دئیے جانے کی ضرورت ہو۔سپریم کورٹ نے کہا کہ آسارام نے خود ہی بغیر کوئی وجہ بتائے ایم آر آئی کرانے سے انکار کر دیا ہے، جس سے صاف ہے کہ ان کی حالت زیادہ خراب نہیں ہے،اس لیے ان میڈیکل رپورٹوں کو بنیاد بنا کر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔